Skip to main content

وہ کون سا وقت تھا جب وبائی امراض اور جنگوں نے مسلمانوں کی عبادات کو متاثر کیا؟



دنیا کے موجودہ حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، کورونا جیسی خطرناک وبا نے دنیا بھر کے نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ اربوں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے سبب پاکستان میں بھی لاک ڈاؤن ہے جبکہ ہر قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ماضی میں بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب جنگی یا وبائی مرض کی وجہ سے مسلمانوں کی عبادتیں متاثر ہوئی تھیں۔
(2014 ایبولا)
سال 2010 میں ایبولا کی وباء آئی جس کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے متعدد مغربی افریقی ریاستوں کے ویزا جاری کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ 2014 میں سعودی عرب کی جانب سے گینینا، لائبیریا اور سیرا لیون کے شہریوں کے لیے عمرہ اور حج ویزا جاری کرنا عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔
(1979، مسجدالحرام پر قبضہ)
1979 کے نومبر سے دسمبر کے دوران 400 سے 500 مسلح افراد نے مسجد الحرام پر تقریباً دو ہفتے تک قبضہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں عبادت کا سلسلہ متاثر ہوا۔ فرانسیسی خصوصی پولیس اور سعودی فوج نے آپریشن کر کے مسجد الحرام پر قبضہ ختم کیا۔
(2016، ملک شام میں جنگ)
29 اپریل کو حلب شہر میں حکومت کی قیادت میں فضائی حملوں میں مساجد کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد جمعہ کی نماز منسوخ کر دی گئی تھی۔ مذہبی کونسلوں نے حلب کے شہریوں کو مساجد سے دور رہنے کی تاکید کی تھی جبکہ شہر میں پہلی مرتبہ اس سنگین نوعیت کا قدم اٹھایا گیا تھا-
(1831 میں طاعون)
صرف سیاسی تنازعات نے ہی حج منسوخ نہیں کروایا بلکہ ہندوستان سے پھیلنے والے ایک طاعون نے بھی 1831 میں مکہ کو متاثر کیا اور تین چوتھائی عازمین حج کو ہلاک کردیا ، جنہوں نے حج کے لئے خطرناک اور بنجر زمینوں سے ہفتوں کا سفر برداشت کیا تھا-
(19ویں صدی، ہیضے کی وبا)
1837 اور 1846 میں ہیضے کی سنگین وبا پھیلی تھی جس کے بعد حج کو معطل کر دیا گیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

یہ منظر صرف محبت کرنے والوں کے لیے ہے --- یونان سے متعلق دلچسپ حقائق

یونان یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہزاروں جزیرے پائے جاتے ہیں جبکہ یہ تاریخی اور قدیم   مقامات کی وجہ سے بھی بےپناہ شہرت رکھتا ہے- لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ یونان سے مزید کئی ایسے حیران کن حقائق بھی ہیں جو اکثر لوگ نہیں  جانت ے Weather موسمِ گرما کے دوران یونان کا موسم گرم اور خشک ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں درمیانہ- اس کے علاوہ یونان کے سمندر تیراکی کے حوالے سے بہترین سمجھے جاتے ہیں Beaches یونان کے ساحل اپنی قدیم اور خوبصورت ریت کی بدولت دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں- یقیناً ہر کوئی ان ساحلوں کی سیر کو جانا چاہتا ہے The Food یونانی کھانے انتہائی لذیز ہوتے ہیں جن میں قابلِ ذکر گائروس گوشت اور مقامی طور پر تیار شدہ تیل اور فیٹا پنیر شامل ہیں اور یہ ایسی غذائیں ہیں جن کی باقی دنیا بھی خواہش کرتی ہے۔ History یونان تاریخی حوالے سے بھی امیر سمجھا جاتا ہے- اس ملک میں سینکڑوں قدیم مندر اور کھنڈرات موجود ہیں جو ثقافت سے محبت کرنے والوں کو بور نہیں ہونے دیتے- بعض قدیم مندر انتہائی محفوظ حالت میں موجود ہیں جبکہ باقی کو بعد میں دوبارہ بحال کی...

مشہور ترک ڈرامہ 'ارطغرل غازی' یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا

مشہور ترک ڈرامہ 'ارطغرل غازی' یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا ترکی کا مشہور ترین تاریخی ڈرامہ سیریل 'ارطغرل غازی' یکم رمضان سے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک (پی ٹی وی) ہوم پر نشر کیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر 'ارطغرل غازی' اردو میں ڈب کر کے ریلیز کیا جا رہا ہے۔ ترکی کے مشہور ڈرامہ سیریل 'ارطغرل غازی' کی کہانی تیرہویں صدی میں مسلمانوں کی عالمی فتوحات کی عکاسی کرتی ہے ارطغرل غازی' پی ٹی وی ہوم پر اردو ڈبنگ کے ساتھ یکم رمضان سے روزانہ رات 9 بج کر 10 منٹ پر نشر کیا جائے گا۔ ڈرامے کی ہر قسط روزانہ رات 12 بجے اور دن 12 بجے بھی دو بارہ نشر کی جائے گی۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر اس ترکش ڈرامے کو نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد ڈرامے کی اردو زبان میں ڈبنگ کا کام شروع کیا گیا تھا۔

میٹھے خربوزے کی پہچان کا آسان طریقہ?

خربوزہ خریدنا کسی رسکی سرمایہ کاری سے کم نہیں کیونکہ عام طور یہ بڑے ہوتے ہیں اور اگر پھل فروش کاٹ کر بھی دکھا تو بھییہ جاننا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے کہ اندر پھل کیسا ہوگا۔ تاہم اگر آپ میٹھا اور پکا ہوا خربوزہ خریدنا چاہتے ہیں تو آپ چند چیزوں کے بارے میں جان لیں تو آپ پھل کو کاٹ کر دیکھیں بغیر بھی اس کے بارے میں درست بتاسکتے ہیں۔ وزن اور ساخت سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ وہ بھاری ہو اور گول ہو۔ چھلکے پر داغ نہ ہو اس کی زرد رنگت کے اوپر کوئی داغ یا نقص موجود نہ ہو اور اس پر دیکھیں کہیں معمولی سی دراڑ بھی نہو جو کہ اس کے بہت زیادہ پک کر خراب ہونے کی علامت ہوسکتا ہے۔ دبا کر دیکھیں جب خربوزہ صحیح معنوں میں پکا ہوا ہوتا ہے تو وہ سخت ہوتا ہے اور اسے ہاتھ سے دبانا مشکل ہوتا ہے جو کہ اس کے میٹھے ہونے کی بھی نشانی ہے۔ رنگت دیکھیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کا چھلکا صحیح معنوں میں زرد یا پیلا ہو اور اس میں سبز رنگ کی آمیزش نہ ہو، یہ بھی اس کے پکے ہوئے ہونے کی نشانی ہے۔