Skip to main content

عرفان خان نے کینسر کی تشخیص کے بعد اپنے مداحوں کے نام لکھا خط !



عرفان خان نے کینسر کی تشخیص کے بعد جون 2018 میں یہ درد بھرا خط اپنے مداحوں کے نام لکھا تھا. آج یہ عظیم اداکار اس جان لیوا بیماری سے لڑتا ہوا ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا. پروردگار مغفرت فرمائے، آمین

کچھ مہینے پہلے اچانک مجھے پتا چلا تھا کہ میں نیورواینڈوکرن کینسر میں مبتلا ہوں۔ میں نے پہلی بار یہ لفظ سنا تھا۔ سرچ کرنے پر میں نے پایا کہ اس لفظ پر بہت زیادہ ریسرچ نہیں ہوئی ہے ۔ کیونکہ یہ ایک نایاب جسمانی حالت کا نام ہے اور اس وجہ سے ا س کے علاج میں غیریقینی زیادہ ہے۔ ابھی تک اپنے سفر میں ،میں تیزگامی سے چلتا چلا جا رہا تھا… میرے ساتھ میرے منصوبے، توقعات، خواب اور منزلیں تھیں۔ میں ان میں ملوث بڑھا جا رہا تھا کہ اچانک ٹی سی نے پیٹھ پر ٹیپ کیا، ‘ آپ کا اسٹیشن آ رہا ہے، پلیز اتر جائیں۔ ‘ میری سمجھ میں نہیں آیا…نہ نہ، میرا اسٹیشن ابھی نہیں آیا ہے… جواب ملا اگلے کسی بھی اسٹاپ پر اترنا ہوگا،آپ کی منزل آ گئی… اچانک احساس ہوا کہ آپ کسی ڈھکن (کارک )کی طرح انجان ساگر میں غیر متوقع لہروں پر بہہ رہے ہیں۔ لہروں کو قابو کرنے کی غلط فہمی لیے۔

اس ہڑبونگ، سہم اور ڈر میں گھبراکر میں اپنے بیٹے سے کہتا ہوں، ‘ آج کی اس حالت میں میں صرف اتناہی چاہتا ہوں… میں اس ذہنی حالت کو ہڑبڑاہٹ، ڈر، بدحواسی کی حالت میں نہیں جینا چاہتا۔ مجھے کسی بھی صورت میں میرے پیر چاہیے ، جن پر کھڑا ہوکر اپنی حالت کو غیر جانبدار ہوکر جی پاؤں۔ میں کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ ‘
''ایسی میری منشاتھی، میرا ارادہ تھا''
کچھ ہفتوں کے بعد میں ایک ہاسپٹل میں بھرتی ہو گیا۔ بے انتہا درد ہو رہا ہے۔ یہ تو معلوم تھا کہ درد ہوگا، لیکن ایسا درد؟ اب درد کی شدت سمجھ میں آ رہی ہے۔ کچھ بھی کام نہیں کر رہا ہے۔ نہ کوئی تسلی اور نہ کوئی دلاسہ۔ پوری کائنات اس درد کے پل میں سمٹ آئی تھی۔ درد خدا سے بھی بڑا اور عظیم محسوس ہوا۔
میں جس ہاسپٹل میں بھرتی ہوں، اس میں بالکنی بھی ہے۔ باہر کا نظارہ دکھتا ہے۔ کوما وارڈ ٹھیک میرے اوپر ہے۔ سڑک کی ایک طرف میرا ہاسپٹل ہے اور دوسری طرف لارڈس اسٹیڈیم ہے۔ وہاں ووین رچرڈس کا مسکراتا پوسٹر ہے، میرے بچپن کے خوابوں کا مکہ۔ اس کو دیکھنےپر پہلی نظر میں مجھے کوئی احساس ہی نہیں ہوا۔ مانو وہ دنیا کبھی میری تھی ہی نہیں۔
میں درد کی گرفت میں ہوں۔

اور پھر ایک دن یہ احساس ہوا! جیسے میں کسی ایسی چیز کا حصہ نہیں ہوں، جو متعین ہونے کا دعویٰ کرے۔ نہ ہاسپٹل اور نہ اسٹیڈیم۔ میرے اندر جو باقی تھا، وہ اصل میں کائنات کی لامحدود قوت اور عقل کا اثر تھا۔ میرے ہاسپٹل کا وہاں ہونا تھا۔ من نے کہا، صرف غیریقینی ہی متعین ہے۔

اس احساس نے مجھے سپردگی اور بھروسے کے لئے تیار کیا۔ اب چاہے جو بھی نتیجہ ہو، یہ چاہے جہاں لے جائے، آج سے 8 مہینوں کے بعد، یا آج سے 4 مہینوں کے بعد، یا پھر 2 سال… فکر درکنار ہوئی اور پھر غائب ہونے لگی اور پھر میرے دماغ سے جینےمرنے کا حساب نکل گیا۔
پہلی بار مجھے لفظ ‘ آزادی ‘ کا احساس ہوا، صحیح معنی میں! ایک کامیابی کا احساس۔
اس کائنات کی کرنی میں میرا یقین ہی مکمل سچ بن گیا۔ اس کے بعد لگا کہ وہ یقین میرے ہر سیل میں پیٹھ گیا۔ وقت ہی بتائے‌گا کہ وہ ٹھہرتا ہے کہ نہیں! فی الحال میں یہی محسوس‌کر رہا ہوں۔

اس سفر میں ساری دنیا کے لوگ… سبھی ، میرے صحت مند ہونے کی دعا کر رہے ہیں، میں جن کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا، وہ سبھی الگ الگ جگہوں اور ٹائم زون سے میرے لئے عبادت کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی دعائیں مل‌کر ایک ہو گئی ہیں… ایک بڑی طاقت …تیز رفتار زندگی میرےاسپائن سے مجھ میں داخل ہو کر سر کے اوپر کھوپڑی سے پھوٹ رہی ہے۔
پھوٹ کر یہ کبھی کلی، کبھی پتی، کبھی ٹہنی اور کبھی شاخ بن جاتی ہے- میں خوش ہوکر ان کو دیکھتا ہوں۔ لوگوں کی اجتماعی دعا سے پھوٹی ہر ٹہنی، ہر پتی، ہر پھول مجھے ایک نئی دنیا دکھاتی ہے۔
احساس ہوتا ہے کہ ضروری نہیں کہ لہروں پر ڈھکن (کارک) کا کنٹرول ہو… جیسے آپ قدرت کے پالنے میں جھول رہے ہوں!

Comments

Popular posts from this blog

یہ منظر صرف محبت کرنے والوں کے لیے ہے --- یونان سے متعلق دلچسپ حقائق

یونان یورپ کا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہزاروں جزیرے پائے جاتے ہیں جبکہ یہ تاریخی اور قدیم   مقامات کی وجہ سے بھی بےپناہ شہرت رکھتا ہے- لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ یونان سے مزید کئی ایسے حیران کن حقائق بھی ہیں جو اکثر لوگ نہیں  جانت ے Weather موسمِ گرما کے دوران یونان کا موسم گرم اور خشک ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں درمیانہ- اس کے علاوہ یونان کے سمندر تیراکی کے حوالے سے بہترین سمجھے جاتے ہیں Beaches یونان کے ساحل اپنی قدیم اور خوبصورت ریت کی بدولت دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں- یقیناً ہر کوئی ان ساحلوں کی سیر کو جانا چاہتا ہے The Food یونانی کھانے انتہائی لذیز ہوتے ہیں جن میں قابلِ ذکر گائروس گوشت اور مقامی طور پر تیار شدہ تیل اور فیٹا پنیر شامل ہیں اور یہ ایسی غذائیں ہیں جن کی باقی دنیا بھی خواہش کرتی ہے۔ History یونان تاریخی حوالے سے بھی امیر سمجھا جاتا ہے- اس ملک میں سینکڑوں قدیم مندر اور کھنڈرات موجود ہیں جو ثقافت سے محبت کرنے والوں کو بور نہیں ہونے دیتے- بعض قدیم مندر انتہائی محفوظ حالت میں موجود ہیں جبکہ باقی کو بعد میں دوبارہ بحال کی...

مشہور ترک ڈرامہ 'ارطغرل غازی' یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا

مشہور ترک ڈرامہ 'ارطغرل غازی' یکم رمضان سے پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا ترکی کا مشہور ترین تاریخی ڈرامہ سیریل 'ارطغرل غازی' یکم رمضان سے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک (پی ٹی وی) ہوم پر نشر کیا جائے گا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر 'ارطغرل غازی' اردو میں ڈب کر کے ریلیز کیا جا رہا ہے۔ ترکی کے مشہور ڈرامہ سیریل 'ارطغرل غازی' کی کہانی تیرہویں صدی میں مسلمانوں کی عالمی فتوحات کی عکاسی کرتی ہے ارطغرل غازی' پی ٹی وی ہوم پر اردو ڈبنگ کے ساتھ یکم رمضان سے روزانہ رات 9 بج کر 10 منٹ پر نشر کیا جائے گا۔ ڈرامے کی ہر قسط روزانہ رات 12 بجے اور دن 12 بجے بھی دو بارہ نشر کی جائے گی۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر اس ترکش ڈرامے کو نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد ڈرامے کی اردو زبان میں ڈبنگ کا کام شروع کیا گیا تھا۔

میٹھے خربوزے کی پہچان کا آسان طریقہ?

خربوزہ خریدنا کسی رسکی سرمایہ کاری سے کم نہیں کیونکہ عام طور یہ بڑے ہوتے ہیں اور اگر پھل فروش کاٹ کر بھی دکھا تو بھییہ جاننا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے کہ اندر پھل کیسا ہوگا۔ تاہم اگر آپ میٹھا اور پکا ہوا خربوزہ خریدنا چاہتے ہیں تو آپ چند چیزوں کے بارے میں جان لیں تو آپ پھل کو کاٹ کر دیکھیں بغیر بھی اس کے بارے میں درست بتاسکتے ہیں۔ وزن اور ساخت سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ وہ بھاری ہو اور گول ہو۔ چھلکے پر داغ نہ ہو اس کی زرد رنگت کے اوپر کوئی داغ یا نقص موجود نہ ہو اور اس پر دیکھیں کہیں معمولی سی دراڑ بھی نہو جو کہ اس کے بہت زیادہ پک کر خراب ہونے کی علامت ہوسکتا ہے۔ دبا کر دیکھیں جب خربوزہ صحیح معنوں میں پکا ہوا ہوتا ہے تو وہ سخت ہوتا ہے اور اسے ہاتھ سے دبانا مشکل ہوتا ہے جو کہ اس کے میٹھے ہونے کی بھی نشانی ہے۔ رنگت دیکھیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کا چھلکا صحیح معنوں میں زرد یا پیلا ہو اور اس میں سبز رنگ کی آمیزش نہ ہو، یہ بھی اس کے پکے ہوئے ہونے کی نشانی ہے۔