Skip to main content

بھارت میں وائرس پھیلانے کا الزام مسلمانوں پر

بھارت میں وائرس پھیلانے کا الزام مسلمانوں پر


بھارتی ہندو تنظیم ہندو مہا سبھا کی رہنما پوجا شکون پانڈے نے بھارتی وزیراعظم مودی کو خط لکھا تھا کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کو دیکھتے ہی گولی مار دینی چاہئے۔ پوجا نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا الزام تبلیغی جماعت پر لگایا تھا۔ اور حد تو یہ ہے کہ اس خبر کو بھارتی میڈیا نے بھی نشر کیا تھا۔پوجا شکون پانڈے کے بیان کی بنیاد پر چوکی انچارج نورنگ آباد مہیش سنگھ نے بی داس کمپاؤنڈ کی رہائشی پوجا شکون کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا۔
اس سلسلے میں مسلم رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے دہلی نظام الدین مرکز اور تبلیغی جماعت کے لوگوں پر طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو غلط نظریہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سب ان تنظیموں کی سازش ہے جو ملک میں امن نہیں دیکھنا چاہتیں۔ہم لوگ قانون پر یقین رکھتے ہیں لیکن جنہوں نے تبلیغی جماعت والوں کے لئے دہشت گرد اور دیگر قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پوجا کو گرفتار کیا گیا ہو، اسے قبل بھی گزشتہ برس پوجا کو جیل جانا پڑا تھا جب اس نے گاندھی کے مجسمہ کو گولی ماری تھی۔اسوقت پولیس نے اسکے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور جیل بھجوا دیا تھا بعد میں اسے ضمانت پر رہائی ملی تھی۔
بھارت میں تبلیغی مرکز سے منسلک افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد مسلمانوں کی زندگی ایک بار پھر اجیرن بنا دی گئی۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت سے تعلق نہ ہونے کے باوجود پولیس انہیں کرونا کا ٹیسٹ کروانیکا کہہ رہی ہے اور انہیں اس ضمن میں ہراساں کیا جا رہا ہے پولیس گھروں پر چھاپوں کے دوران چادرو چاردیواری کا تقدس پامال کرتی ہے اور نوجوان پر تشدد کرتی ہے۔اترپردیش سمیت بھارت کی کئی دیگر ریاستوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ بھارتی میڈیا نے بھی اس ضمن میں جلتی پر تیل ڈالنے کا کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا نے ایسی کہانیاں بنا کر پیش کیں کہ شاید بھارت میں کرونا تبلیغی جماعت اور مسلمانوں نے ہی پھیلایا ہے۔
اترپردیش کے شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس گھر میں آتی ہے اور تبلیغی جماعت سے تعلق کا کہہ کر کرونا کا ٹیسٹ کروانیپر مجبور کرتی ہے۔ اس ضمن میں یوپی پولیس نہ صرف گھروں پر چھاپے مار رہی ہے بلکہ مختلف مساجد پر بھی چھاپے مارے گئے۔ امام مساجد پر بھی تشدد کیا گیا اور مساجد کی بھی بے حرمتی کی گئی۔گورکھپور پولیس نے مقامی مکہ مسجد، اکبری جامع مسجد پر چھاپہ مارا اور ائمہ مساجد کو گرفتار کر لیا، اس کے علاوہ بھی بیس کے قریب مساجد پر چھاپے مارے گئے۔
دہلی میں بھی کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ دنوں فساد سے متاثرہ مسلمانوں کو کرونا وائرس کی وجہ ایک اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مصطفی آباد کے مسلمانوں پر پولیس نے کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کر دیا اور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریاں شروع کر دیں۔ مصطفیٰ آباد کی خواتین کا کہنا ہے کہ دہلی تشدد کے بعد ابھی ہم سنبھلے ہی نہیں تھے کہ اب پولیس نے کرونا کو لے کر ہمیں ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہاں کے مسلمان دہلی میں کرونا پھیلا رہے ہیں اس لئے سب کو جیل میں ڈالا جائے گا۔ خواتین نے مودی سمیت دیگر حکام سے اپیل کی کہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو روکا جائے اور جو نوجوان گرفتار کئے گئے ہیں ان کو رہا کیا جائے۔
بھارت میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض مہاراشٹر میں 335 ہیں، وہاں 16 ہلاکتیں ہو چکی ہیں، تمل ناڈو میں 309 مریض ہیں اور ایک ہلاکت ہوئی ہے کیرالہ میں 286 مریض،2 ہلاکتیں، دہلی میں 219، آندھراپردیش میں 132،کرناٹک میں 124 مریض ہیں۔
اس سے قبل دہلی میں شہریت بل کے خلاف احتجاج پر مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے دوران مسلمانوں پر ہوئے مظالم پر بھارتی میڈیا بھی بول پڑا۔ایک بھارتی اخبار نے دلی فسادات کے حوالے سے دل دہلا دینے والی رپورٹ شائع کی جس میں انتہا پسندوں کے مسلمانوں پر بہیمانہ حملوں کے طریقوں کو نازی جرمنی سے بھی جدید قرار دے دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 2020 میں ہندوستانی نازی جرمنوں کے مقابلے میں جدید ہو رہے ہیں۔ مودی حکومت اور بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے رپورٹ میں لکھا گیا کہ ہمیں گیس چیمبروں کی ضرورت نہیں ہے، ہم انسانوں کو سینکنے کے لیے گھروں کو تندوروں میں بدل دیتے ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہلی میں جاری مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کے گھر جلائے جانے سے پہلے لوٹ مار کی گئی۔ گھر جلانے سے پہلے ٹی وی،فریج سمیت جو گھریلو سامان لوٹا جاسکتا تھا ہندو دہشت گرد بلوائی لوٹ کر ساتھ لے جاتے تھے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران لوٹے گئے گھروں کو آگ لگا کر علاقے کے دوسرے گھروں پر دھاوا بولا گیا۔بھارت میں انتہا پسندوں کا نشانہ بننے والے 22 سالہ محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں
شرپسندوں کے حملوں کے دوران ایک چٹائی رہ گئی تھی جو اب بارش کے پانی میں ڈوب گئی ہے۔ بھارت میں ہندو دہشت گردوں کے حملوں میں 47 مسلمان شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔
بھارت بہت خطرناک راستے پر چل پڑا ہے۔ بھارت نے جو راستہ چنا ہے، اس کی واپسی بہت مشکل ہے۔ بھارت نے جو نسل پرستانہ اور فاشسٹ نظریہ اپنایا ہے ادھر سے واپسی انتہائی مشکل ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے انتہا پسند ہندوں آر ایس ایس کا نظریہ اپنایا اور اب بھارت میں فسادات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔اس کا منطقی انجام ہے خونریزی ہے۔ انتہاپسندی اور قومیت پسندی کی بنیاد پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھارتی اقلیتوں پر ظلم اٹھا رہی ہے اور اگر بی جے پی نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تو یہ ہی انتہا پسندی اور قومیت پسندی انہیں پیچھے ہٹنے نہیں دے گی۔


Comments

Popular posts from this blog

ککو بھائی " شادی شہداء " کا ایک تاریک ساز کردار

  ککو بھائی " شادی شہداء " کا ایک تاریک ساز کردار تحریر : اظہر عزمی ہمارے ایک غیر شادی شدہ دوست جو محلہ چھوڑ کر جا چکے ہیں مگر مہینے میں ایک آدھ چکر لگا لیتے ہیں ۔ شوہروں کو “شادی شہداء” کہتے ہیں ۔ جب بھی آتے ہیں ایک ہی بات کہتے ہیں : شوہروں کی “قبر گیری” کے لئے آتا ہوں ۔ فرماتے ہیں : شادی شوہر کا ایک ایسا “فاتحہ+انہ” اقدام ہے جس کا کھانا سب خوشی خوشی تناول فرماتے ہیں اور جاتے جاتے برے وقتوں کے لئے ایک لفافہ بھی ہاتھ میں دھر جاتے ہیں کہ اب اس سے آگے تم جانو اور جو مقامات شدیدہ آئیں گے وہ تمھارا نصیب ، ہمارے طرف سے یہ کیشی امداد ہی زاد راہ ہے۔ میں اس معاملے میں ذرا ہلکا ہاتھ رکھتا ہوں کیونکہ ایک عدد بیوی رکھتا ہوں ۔ میرا " شوہرانہ " عقیدہ ہے کہ شوہر ہر صورت میں پیارا ہوجاتا ہے ۔ کچھ اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں اور بچے کچھے بیویوں کو ۔ کہتے ہیں کہ جب موت آئے تو بہتر ہے کہ آپ زندہ یوں ۔ دوست کہتا ہے کہ شوہروں سے یہ توقع عبث ہے ۔ ایک بار آئے تو بولے : آج کل “شادی شہداء” کے تاریک ساز کردار کے کیا حال ہیں ؟ میں نے کہا : کس کی بات کر رہے ہیں ۔ بولے : ککو بھائی کا ...

شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، حکومت کیخلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

    اسلام آباد مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں خواجہ آصف، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سمیت دیگر تمام متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات میں ہم نے اُن کی بات سنی اور انہوں نے ہماری بات سنی، ہم پارلیمان کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں گے،اے پی سی ہوگی اور ضرور ہوگی، تمام جماعتوں کی موجودگی میں فیصلے ہوں گے، ہم سب مل کر بیٹھ کراے پی سی بلائیں گے، اے پی سی سے متعلق رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت کریں گے۔   ویب ڈیسک   37 منٹ پہلے شیئر ٹویٹ شیئر ای میل تبصرے مزید شیئر مزید اردو خبریں ہم سب مل کر بیٹھ کراے...

پیروں کی گرمی ختم کرنے کے ٹوٹکے

پیروں کی گرمی ختم کرنے کے ٹوٹکے پیروں کے جلنے یا پیروں میں آگ محسوس ہونے کی دو وجوہات ہیں ؛ایک اعصاب کی خرابی جو ہمیں پتہ نہیں چلتی اور دوسرے ذیابطس یعنی شوگر۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پیر جل رہے ہیں یا پیروں میں سے آگ نکل رہی ہے۔تو اس کی وجہ جاننے کے لئے آپ کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑے گا ۔اگر اعصاب بہت ذیادہ متاثر ہیں تو اس کا علاج دواؤں سے کرنا ضروری ہے۔ اور اگر آپ کوپیر جلنے کی وجہ پہلے سے معلوم ہے اور آپ اس کا علاج قدرتی طریقوں سے کرنا چاہتے ہیں تو چند ٹوٹکے آپ کے لئے لکھے جا رہے ہیں ۔ غذا میں تبدیلی لائیں اگر آپ کو شوگر ہے تو آپ کی اس تکلیف کا باعث آپ کی غذا ہے۔اس لئے ایسی غذا کھائیں جس سے آپ کا شوگر لیول نارمل رہے۔اپنی انسولین لینا نہ بھولیں ۔ تین وقت ذیادہ کھانے کے بجائے دن بھر میں تھوڑا تھوڑا کھانا پانچ چھ مرتبہ کھائیں ۔اچھی غذاکے ذریعے شوگر کو کنٹرول کرنا ۔پیروں کی جلن کے لئے بہت مفید ہے۔ سگریٹ نوشی ترک کریں اعصاب کی کمزوری کی اہم وجہ سگریٹ نوشی ہے،سگریٹ نوشی ترک کرنے سے نروز ذیادہ جلدی بہتر ہونگے۔اور اس طرح آپ کو پیروں کی جلن سے نجات ملے گی۔اگر آپ تمباکو کھاتے ہیں تو...